اگر کوئی خاتون چہرے کا پردہ (نقاب) نہیں کرتی ہے صرف برقعہ پہنتی ہے تو اس پر بھی بے پردہ مستورات کے متعلق جو وعیدیں احادیث میں وارد ہوئی ہیں کیا اس خاتون پر بھی وارد ہوں گی؟ ہم اس عورت کو بے پردہ والی عورت کہہ سکتے ہیں یا نہیں؟ نیز یہ بھی بتائیں کہ یہ چہرے کا پردہ نص قطعی سے ثابت ہے یا صرف علماء نے فتنہ کے سد باب کے لیے ثابت فرمایا ہے؟ تفصیلی جواب مع حوالہ جات سے نوازیں عین نوازش ہوگی۔